
اسلام دینِ فطرت ہے جو ہمیں زندگی گزارنے کے بہترین آداب سکھاتا ہے۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو سلام کرنا بہت اجر کا باعث ہے، لیکن کچھ خاص مواقع ایسے بھی ہیں جہاں شرعی طور پر سلام کرنا منع ہے یا اسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ آج کی اس پوسٹ میں ہم 5 اہم صورتوں کا ذکر کریں گے تاکہ ہم نادانستہ غلطی سے بچ سکیں۔
فہرست مضامین (Table of Contents)
1. قرآن مجید کی تلاوت کے دوران

جب کوئی شخص اللہ کی کتاب یعنی قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہو، تو اس وقت اسے سلام کرنا مناسب نہیں ہے۔ تلاوت کرنے والا اللہ سے کلام کر رہا ہوتا ہے اور اس کی توجہ پوری طرح عبادت کی طرف ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر آپ سلام کریں گے تو اس کا دھیان بٹ جائے گا اور سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ تلاوت کرنے والے کو سلام کرنا منع ہے، ان میں سے ایک اہم موقع یہ بھی ہے۔
اسے اپنے حال پر چھوڑ دیں تاکہ وہ یکسوئی سے تلاوت جاری رکھ سکے۔
2. ذکر و اذکار اور وظائف کے وقت

دوسرا موقع وہ ہے جب کوئی شخص ذکر و اذکار میں مشغول ہو۔ مثلاً اگر کوئی تسبیح پڑھ رہا ہے، درود شریف کا ورد کر رہا ہے، یا کوئی خاص وظیفہ مکمل کر رہا ہے۔ ایسے شخص کی توجہ اور روحانی کیفیت بہت اہم ہوتی ہے۔ بیچ میں سلام کرنے سے اس کی گنتی بھولنے یا توجہ ہٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لہٰذا جب آپ کسی کو ذکر کرتے دیکھیں تو خاموشی سے گزر جائیں کیونکہ اس صورت میں بھی سلام کرنا منع ہے۔
3. مسجد میں نماز کے انتظار کے دوران

حدیث کے مفہوم کے مطابق، جو شخص باوضو ہو کر نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا ہو، وہ حکم کے اعتبار سے نماز ہی میں ہوتا ہے۔ چونکہ نماز میں بات چیت اور سلام ممنوع ہے، اس لیے نماز کے منتظر افراد کو بھی سلام کرنا درست نہیں ہے۔ ہمیں مسجد کے آداب کا خیال رکھنا چاہیے اور ایسے وقت میں خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔
نوٹ : یہ حکم اس کے لیے ہے کہ جو نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو اس شخص کے لیے نہیں ہے کہ جو ویسے ہی بیٹھا ہوا ہو یعنی جو نماز کے انتظار کے علاوہ بیٹھا ہو۔
4. دینی درس یا بیان کے دوران

اگر کہیں دین کی محفل جمی ہو، کوئی عالم دین درس دے رہے ہوں، حدیث سنا رہے ہوں یا کوئی شرعی مسئلہ بیان کیا جا رہا ہو، تو ایسے مجمع میں سلام کرنا سخت منع ہے۔
- بولنے والے کو: اس سے اس کی گفتگو کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔
- سننے والوں کو: ان کی توجہ ہٹ جاتی ہے اور ماحول خراب ہوتا ہے۔
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ علم کی مجلس کے دوران سلام کرنا منع ہے تاکہ ہم دوسروں کے لیے خلل کا باعث نہ بنیں۔
5. اذان، اقامت اور خطبہ کے وقت

یہ سب سے نازک اور اہم اوقات ہیں:
- اذان اور اقامت: جب اذان ہو رہی ہو یا اقامت کہی جا رہی ہو تو خاموشی سے اس کا جواب دینا چاہیے۔ اس دوران سلام کرنا یا بات چیت کرنا منع ہے۔
- جمعہ اور عیدین کا خطبہ: جب امام خطبہ دے رہا ہو، تو اس وقت بولنا یا سلام کرنا گناہ کے درجے میں آتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آپ کو سلام کر بھی لے، تو خطبے کے دوران اس کا جواب دینا جائز نہیں ہے۔
کیا ان حالات میں سلام کا جواب دینا واجب ہے؟

عام حالات میں سلام کا جواب دینا واجب ہے، لیکن اوپر بیان کیے گئے ان 5 مواقع پر اگر کوئی غلطی سے سلام کر بھی لے، تو سننے والے پر سلام کا جواب دینا واجب نہیں رہتا۔ بلکہ خطبہ جیسے مواقع پر تو جواب دینا گناہ کبیرہ میں شمار ہو سکتا ہے۔

ہمیں سلام کے فروغ کے ساتھ ساتھ اس کے آداب کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ امید ہے آپ کو سمجھ آ گئی ہوگی کہ کن حالات میں سلام کرنا منع ہے۔ ان باتوں پر عمل کر کے ہم اپنی اور دوسروں کی عبادت میں خلل ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔
اور اگر اپ کو سلام کے ان تمام مسائل کا علم ہو چکا ہے تو اگر اپ نے نماز کے مسائل بھی جاننے ہیں اسی طرح اسان الفاظوں میں تو یہاں کلک کریں۔
اور اگر یہ مسائل اپ نے ایک ویڈیو کی شکل میں سمجھنے ہیں تو اپ یہ نیچے دی گئی ویڈیو کو بھی دیکھ سکتے ہیں یا پھر اپ اس ٹیکسٹ پر کلک کر کے بھی دیکھ سکتے ہیں۔