Iman-e-Ahle-Sunnat

امام کے پیچھے قرات کرنا کیسا ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل مسئلہ

نماز اسلام کا اہم رکن ہے اور اس کی درستگی ہماری آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔ اکثر مسلمانوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باجماعت نماز ادا کرتے وقت امام کے پیچھے قرات کرنی چاہیے یا نہیں؟ کیا مقتدی (امام کے پیچھے نماز پڑھنے والا) سورہ فاتحہ پڑھے گا یا خاموش رہے گا؟

فقہائے کرام اور علماء نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ آج کے اس مضمون میں ہم اسی اہم مسئلے کا جائزہ لیں گے تاکہ ہماری نمازیں سنت کے مطابق ادا ہو سکیں۔

امام کے پیچھے قرات کرنا کیسا ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل مسئلہ

امام کے پیچھے قرات کا شرعی حکم

جمہور علماء اور بالخصوص فقہ حنفی کے مطابق، مقتدی کے لیے کسی بھی نماز میں امام کے پیچھے قرات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ چاہے نماز جہری ہو (جیسے فجر، مغرب، عشاء) جس میں امام بلند آواز سے تلاوت کرتا ہے، یا سری نماز ہو (جیسے ظہر اور عصر) جس میں تلاوت آہستہ کی جاتی ہے۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ مقتدی کا امام کے پیچھے قرات کرنا “مکروہِ تحریمی” اور گناہ ہے۔

  • اگر کوئی شخص جان بوجھ کر امام کے پیچھے پڑھتا ہے تو اس کی نماز “واجب الاعادہ” ہوگی (یعنی اسے وہ نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی)۔
  • اگر غلطی سے یا بھول کر پڑھ لیا تو اس پر گناہ نہیں اور نہ ہی سجدہ سہو واجب ہوگا۔

قرآن مجید سے دلائل

قرآن مجید سے دلائل

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مقتدی کے لیے بہت واضح حکم ارشاد فرمایا ہے۔ سورۃ الاعراف (204) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔”

صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت کا موقف ہے کہ یہ آیتِ مبارکہ خاص طور پر نماز اور مقتدی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس آیت میں دو حکم دیے گئے ہیں:

  1. غور سے سننا (جب امام بلند آواز سے پڑھے)۔
  2. خاموش رہنا (یہ حکم ہر حال میں ہے)۔

لہٰذا جب ہم امام کے پیچھے قرات کرتے ہیں تو ہم اس قرآنی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں جس میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ کی متعدد احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ امام کے پیچھے قرات نہیں کرنی چاہیے۔ چند اہم دلائل درج ذیل ہیں:

1. امام کی پیروی کا حکم

سنن نسائی (922) میں  یہ حدیث موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قرات کرے تو تم خاموش ہو جاؤ۔

یہ حدیث بالکل واضح کرتی ہے کہ مقتدی کا کام صرف سننا اور خاموش رہنا ہے۔

2. امام کی قرات ہی مقتدی کی قرات ہے

ابنِ ماجہ (850) کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

“جس کا کوئی امام ہو تو امام کی قرات ہی اس (مقتدی) کی قرات ہے۔”

اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی کو الگ سے کوئی اضافی تلاوت یا سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ امام کا پڑھنا پوری جماعت کی طرف سے کافی ہو جاتا ہے۔

ایک اعتراض اور اس کا جواب

ایک اعتراض اور اس کا جواب

اکثر لوگ ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ “اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی۔” اس بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرات (سورہ فاتحہ) کرنا ضروری ہے۔

تاہم، فقہاء نے ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے  فرمایا کہ یہ جو حدیث آپ نے بیان کی ہے اس کی جو مکمل وضاحت ہے وہ ترمذی شریف میں موجود ہے 

“جس نے کوئی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس نے نماز ہی نہیں پڑھی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔” (313)
یہ جو قرات کرنے کا حکم ہے یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو :

  1. تنہا نماز پڑھ رہے ہوں۔
  2. یا خود امام ہوں۔

لیکن جو شخص مقتدی ہے، اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ خاموش رہے ۔

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام


article ma mojod iss heading ky lyea ak featured thumbnail bnado our 'Iman-e-Ahle-Sunnat' ye mari website ka name ha to thumbnail ma use krna ise bi our "with transactions, effects, 2d character, with heading with modern color combinations with attractiveness etc" (with new design, lock etc every thing new)

تمام دلائل کا نچوڑ یہ ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے مطابق امام کے پیچھے قرات کرنا قرآن کی آیت اور احادیث کے خلاف ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم امام کی قرات پر ہی اکتفا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نماز کے متعلق مزید احکامات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس آرٹیکل کو ایک ویڈیو کی شکل میں دیکھنے کے لیے آپ یہاں کلک کر سکتے ہیں 

Leave a Comment