Iman-e-Ahle-Sunnat

غسل کب فرض ہوتا ہے؟ 5 اہم اسباب اور غسل سے پہلے 3 ضروری کام

غسل کب فرض ہوتا ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

اسلام پاکیزگی اور طہارت کا دین ہے۔ ہمیں ہر وقت پاک رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اکثر ہم شرم کی وجہ سے دینی مسائل نہیں پوچھ پاتے اور غلط فہمی میں رہتے ہیں۔ ایک بہت اہم سوال جو ہر مسلمان کے ذہن میں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غسل کب فرض ہوتا ہے؟

غسل فرض ہوتا ہے

علماء کرام نے قرآن و سنت کی روشنی میں غسل فرض ہونے کے 5 بنیادی اسباب بیان کیے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بات بھی پائی جائے، تو انسان پر نہانا فرض ہو جاتا ہے۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔


غسل فرض ہونے کے 5 اسباب (وجوہات)

غسل فرض ہونے کے 5 اسباب (وجوہات)

علماء فرماتے ہیں کہ درج ذیل 5 صورتوں میں غسل فرض ہوتا ہے، اس کا علم ہونا ہر بالغ مرد اور عورت پر ضروری ہے:

1. منی کا نکلنا (Ejaculation)

منی کا نکلنا

جب مرد یا عورت کی شرمگاہ سے ‘منی’ شہوت (Lust) کے ساتھ اپنی جگہ سے جدا ہو کر جسم سے باہر نکل جائے، تو غسل فرض ہو جاتا ہے۔ اگر منی نکلے لیکن شہوت نہ ہو (جیسے کوئی بھاری بوجھ اٹھانے سے)، تو غسل فرض نہیں ہوگا۔

2. ہمبستری کرنا (Sexual Intercourse)

ہمبستری کرنا

اگر میاں بیوی آپس میں ملیں اور مرد کی شرمگاہ کا اگلا حصہ (سپاری) عورت کی شرمگاہ میں داخل ہو جائے، تو دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے۔ چاہے منی نکلے یا نہ نکلے، صرف ملاپ (دخول) ہونے سے ہی غسل لازم ہو جائے گا۔

3. احتلام ہونا (Wet Dream)

احتلام ہونا

نیند کی حالت میں اگر منی نکل جائے جسے عام زبان میں “نائٹ فال” یا “احتلام” کہتے ہیں، تو اٹھنے کے بعد غسل کرنا فرض ہے۔ اگر کپڑوں پر تری (Wetness) نظر آئے تو نہانا ضروری ہوگا۔

نوٹ : نہانے وغیرہ کا جہاں بھی کہا جائے اس سے مراد غسل ہی ہے

4. حیض سے فارغ ہونا (Menstruation)

حیض سے فارغ ہونا

خواتین کو ماہانہ جو خون آتا ہے (حیض)، جب وہ رک جائے تو اس کے بعد پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا فرض ہے۔ اس کے بغیر نماز اور قرآن پڑھنا جائز نہیں۔

5. نفاس کا ختم ہونا (Postpartum Bleeding)

نفاس کا ختم ہونا

بچے کی ولادت (ڈیلیوری) کے بعد جو خون آتا ہے اسے ‘نفاس’ کہتے ہیں۔ جب یہ خون آنا بند ہو جائے (چاہے جتنے دن بعد ہو)، تو عورت پر غسل کرنا فرض ہو جاتا ہے۔


غسل سے پہلے یہ 3 کام ضرور کریں (اہم مسئلہ)

غسل سے پہلے یہ 3 کام ضرور کریں (اہم مسئلہ)

اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں کہ ہمبستری یا احتلام کے فوراً بعد نہا لیتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ اگر منی نکلے، تو فوراً غسل نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان 3 میں سے کوئی ایک کام ضرور کر لیں:

  1. تھوڑی دیر سو جائیں۔
  2. تھوڑا چل پھر لیں (چہل قدمی کریں)۔
  3. پیشاب کر لیں۔

وجہ: اس کی حکمت یہ ہے کہ نالی میں اگر منی کے قطرے رکے ہوئے ہوں، تو ان کاموں سے وہ باہر نکل جاتے ہیں۔ اگر آپ نے یہ کیے بغیر غسل کر لیا اور بعد میں بچی ہوئی منی کا قطرہ نکل آیا، تو آپ پر دوبارہ غسل فرض ہوتا ہے؟ جی ہاں! دوبارہ غسل فرض ہو جائے گا۔ اس لیے پیشاب کر لینا سب سے بہتر ہے تاکہ نالی صاف ہو جائے۔


تو دوستو! امید ہے اب آپ کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہوگا کہ غسل کب فرض ہوتا ہے۔ دین کی ان باتوں کو سیکھنا شرم کی بات نہیں بلکہ ثواب کا کام ہے۔ اللہ ہمیں پاکیزگی کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

سوال 1: اگر شک ہو کہ احتلام ہوا ہے یا نہیں، تو کیا غسل فرض ہوگا؟

سوال 1: اگر شک ہو کہ احتلام ہوا ہے یا نہیں، تو کیا غسل فرض ہوگا؟


جواب: اگر کپڑوں پر تری نظر آئے اور یقین ہو کہ یہ منی ہے، تو غسل فرض ہوگا۔ اگر نشان نہ ہو، تو غسل فرض نہیں۔

سوال 2: کیا عورت کو اندرونی معائنے (Internal Checkup) کے بعد غسل کرنا چاہیے؟

سوال 2: کیا عورت کو اندرونی معائنے (Internal Checkup) کے بعد غسل کرنا چاہیے؟


جواب: اگر اندرونی معائنے کے دوران کوئی دوا یا آلہ اندر داخل کیا گیا اور اس پر کوئی تری واپس آئی، تو وضو ٹوٹ جائے گا مگر غسل فرض نہیں ہوگا جب تک شہوت کے ساتھ منی نہ نکلے۔

مزید علم حاصل کرنے کے لیے اب ان پوسٹوں کو بھی بیٹھ سکتے ہیں 

 اور اگر یہ مسائل اپ نے ایک ویڈیو کی شکل میں سمجھنے ہیں تو اپ یہ نیچے دی گئی ویڈیو کو بھی دیکھ سکتے ہیں یا پھر اپ اس ٹیکسٹ پر کلک کر کے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment