
نکاح کرنا سنت موکدہ ہے اور اس میں “ولیمہ” کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ خوشی کا وہ اظہار ہے جو دولہا کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ تاہم، آج کل ہمارے معاشرے میں ولیمہ کے حوالے سے کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اکثر لوگ ولیمہ کا صحیح وقت، اس کے دن اور طریقہ کار سے ناواقف ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے باوجود سنت کی اصل روح کو پا نہیں پاتے۔
اس بلاگ پوسٹ میں ہم قرآن و سنت اور علماء کرام کی آراء کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ولیمہ کا صحیح وقت کیا ہے اور اسے ادا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔
Table of Contents
ولیمہ کا صحیح وقت کیا ہے؟

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ولیمہ درحقیقت “شبِ زفاف” (یعنی رخصتی کی پہلی رات) کے بعد اللہ کا شکر ادا کرنے کا نام ہے۔ لہٰذا ولیمہ کا صحیح وقت رخصتی کے اگلے دن کا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے جب اپنا ولیمہ فرمایا، تو وہ شبِ زفاف کے اگلے دن ہی منعقد کیا ۔ آپ ﷺ نے ایک صحابیِ رسول کو بھی یہی تلقین فرمائی کہ “ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو”۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
- ولیمہ رخصتی کے اگلے دن کرنا افضل ہے۔
- اسے رخصتی کے دوسرے دن بھی کیا جا سکتا ہے۔
- یہ دن یا رات کسی بھی وقت منعقد کیا جا سکتا ہے۔
کیا کئی دنوں بعد بھی ولیمہ ہو سکتا ہے؟

آج کل ایک نیا رواج دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ شادی کے بعد ہنی مون یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے ولیمہ کا صحیح وقت گزار دیتے ہیں اور تیسرے، چوتھے، یا حتیٰ کہ ایک ہفتے بعد ولیمہ رکھتے ہیں۔
شرعی نقطہ نظر سے اگر دو دن گزر جائیں اور اس کے بعد تیسرے یا چوتھے دن دعوت کی جائے، تو یہ ایک عام دعوت تو کہلائے گی، لیکن اسے “مسنون ولیمہ” نہیں کہا جائے گا۔ اس طرح کی تقریبات سے ولیمہ کی سنت ادا نہیں ہوتی۔ لہٰذا تاخیر کرنے کے بجائے کوشش کرنی چاہیے کہ ولیمہ رخصتی کے فوراً بعد والے دن ہی کیا جائے۔
بارات اور ولیمہ کی مشترکہ دعوت (Joint Event)

مہنگائی کے اس دور میں بہت سے لوگ اخراجات بچانے کے لیے بارات اور ولیمہ کو ایک ساتھ ملا (Merge) کر ایک ہی تقریب کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہ عمل بچت کا ذریعہ لگتا ہے، لیکن کیا اس سے ولیمہ کی سنت ادا ہوتی ہے؟
علماء فرماتے ہیں کہ اگر رخصتی سے پہلے ہی کھانا کھلا دیا جائے تو یہ ولیمہ شمار نہیں ہوگا، کیونکہ ولیمہ تو شبِ زفاف کی خوشی اور شکرانے کا نام ہے۔ اگر آپ نے رخصتی سے پہلے ہی ولیمہ کے نام پر کھانا کھلا دیا تو یہ آپ کی طرف سے شادی کی خوشی میں ایک عام کھانا تو ہو سکتا ہے، لیکن ولیمہ کا صحیح وقت نہ ہونے کی وجہ سے ولیمہ کی سنت ادھوری رہ جائے گی۔
ولیمہ کی سنت ادا کرنے کا آسان اور کم خرچ طریقہ

اگر کوئی شخص مالی مشکلات کی وجہ سے بارات اور ولیمہ الگ الگ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، یا وہ جوائنٹ فنکشن (مشترکہ تقریب) ہی کرنا چاہتا ہے، تو اس کے لیے علماء ایک بہترین حل تجویز کرتے ہیں۔
آپ شادی کی بڑی تقریب تو اپنی سہولت کے مطابق مشترکہ کر لیں، لیکن ولیمہ کی سنت ادا کرنے کے لیے رخصتی کے اگلے دن اپنے گھر پر ایک مختصر دعوت کا اہتمام کریں۔
- اس میں دیگ بنوانے یا ہال بک کروانے کی ضرورت نہیں۔
- صرف 20 سے 25 قریبی رشتہ داروں یا پڑوسیوں کو گھر بلا کر کھانا کھلا دیں۔
- اس کھانے میں ولیمہ کی نیت کر لیں۔
اس طرح آپ کا بڑا خرچہ بھی بچ جائے گا اور ولیمہ کا صحیح وقت پر انعقاد ہونے کی وجہ سے سنت بھی بہترین طریقے سے ادا ہو جائے گی۔ اسلام ہمیں نمود و نمائش کے بجائے سادگی کا درس دیتا ہے، اور بہترین نکاح وہی ہے جس میں کم سے کم بوجھ ہو۔
خلاصہ کلام
خلاصہ یہ ہے کہ ولیمہ کا صحیح وقت رخصتی کے بعد کا اگلا دن ہے۔ اسے بلاوجہ مؤخر کرنا یا رخصتی سے پہلے کر لینا سنت کے خلاف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی شادیوں میں غیر ضروری رسومات کے بجائے سنتِ نبوی ﷺ کو ترجیح دیں تاکہ ہماری زندگیوں میں خیر و برکت شامل ہو سکے۔
ایسے پانچ اسباب کے جن سے غسل فرض ہو جاتا ہے ان کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
اس آرٹیکل کو ایک ویڈیو کی شکل میں دیکھنے کے لیے آپ یہاں کلک کر سکتے ہیں