بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ، وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیسے ہیں آپ سب؟ امید ہے سب خیریت سے ہوں گے۔
میری فیچرڈ امیج سے یعنی مین تھمب نیل سے آج کا میرا موضوع تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہوگا۔ جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے کہ چند روز قبل ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان (انڈیا) میں ایک بہت بڑی ڈیبیٹ ہوئی، ایک مناظرہ ہوا اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کے اوپر۔ اس جاوید اختر ڈیبیٹ میں اللہ کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے جو اسکالر اسٹیج پر موجود تھے وہ “مفتی شمائل صاحب” تھے، اور ان کے مدمقابل جاوید اختر صاحب تھے جو کہ ملحد (Atheist) ہیں اور اللہ کے وجود کو نہیں مانتے۔
وہاں سائنسی (Scientific) طور پر بھی جواب دیے گئے اور منطقی (Logical) طور پر بھی۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس پوری ڈیبیٹ کو اٹھا کر “فرقہ دیوبندیت” کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ:
“دیکھیے جی! چونکہ وہ مفتی شمائل صاحب دیوبندی تھے اور وہ دیوبندی فرقے کو ریپریزنٹ (Represent) کر رہے تھے، تو اس وجہ سے دیوبندیت کی جیت ہو گئی اور یہ فرقہ حق پر ہے۔”
آج میں آپ کے سامنے وہ حقائق رکھوں گا جو سوشل میڈیا کے شور میں چھپائے جا رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے سادہ لوگ سنی مسلمان اور میری نوجوان نسل اس “فرقہ واریت” کے دھوکے سے بچ سکیں۔
1. کیا یہ واقعی دیوبندیت کی فتح ہے؟
یہ جو طرح طرح کی باتیں سوشل میڈیا پر کر کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے، اسے کہتے ہیں فرقہ واریت کو ہوا دینا۔ آپ ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھیں! اہلسنت کے کتنے ہی ایسے علماء ہیں جنہوں نے باقاعدہ ڈیبیٹ (مناظرہ) کے ذریعے نہیں بلکہ ” مباہلے” کے ذریعے ملحدین کا منہ بند کیا۔ ہمارے علماء نے تو بسم اللہ پڑھ کر زہر کے پیالے تک پیے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سنا کہ ہم نے سوشل میڈیا پر آ کر شور مچایا ہو کہ “بریلویوں نے ایسے کر دیا” یا “اہلسنت جیت گئے”؟
بھائی! فرقے کی بات آپ تب کریں نہ جب ڈیبیٹ فرقے کے اوپر ہو رہی ہو۔
اگر جاوید اختر نے یہ کہا ہوتا کہ “میں دیوبندیت کو نہیں مانتا”۔
اور سامنے والا بندہ (مفتی شمائل) دیوبندیت پر دلائل دے رہا ہوتا۔
اور پھر وہ اپنا فرقہ ثابت کر دیتا۔
تو پھر آپ کی یہ بات کرنا کہیں نہ کہیں سمجھ میں آتی ہے۔
اور یہاں تو دعویٰ مفتی شمائل صاحب کی طرف سے بھی نہیں کیا گیا کہ میرا مسلک جیت گیا (حق پر وغیرہ) (جہاں تک
میری معلومات ہیں)، لیکن ان کے فالوورز نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔
2. میں کن لوگوں سے مخاطب ہوں؟
میں آج مفتی شمائل صاحب سے گفتگو نہیں کر رہا۔ میرا خطاب ان دو طبقات سے ہے:
وہ لوگ جو فرقہ دیوبندیت سے تعلق رکھتے ہیں: جو اس ڈیبیٹ کی آڑ میں اپنے فرقے کو پروموٹ کر رہے ہیں۔
وہ لوگ جو اہلسنت سے تعلق رکھتے ہیں: جو بیچارے سادگی میں پھنس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “یار دیکھو! فرقہ بازی نہیں ہونی چاہیے، اس نے اللہ کی بات تو کی ہے۔”
میرے اپنے سنی بھائی کہتے ہیں: “نادر بھائی! کیا ہو گیا ہے؟ یہ کیا آپس کی لڑائیاں ہیں؟ یہ انگوٹھے چوم لیے، درود پڑھ لیا، یہ گیارہویں ہونی چاہیے بارہویں نہیں ہونی چاہیے… یہ کیا جھگڑے ہیں؟”
آج میں آپ کو سمجھاتا ہوں، ذرا توجہ سے میری بات پڑھیے گا!
3. کیا مخالف مسلک کو پروموٹ کرنا جائز ہے؟ (قادیانیت کی زبردست مثال)
آپ سب سے پہلے اس بات پر آ جائیں کہ آپ ایک بندے کو پروموٹ کیوں کر رہے ہیں؟ آپ کہتے ہیں: “یار ہم اس وجہ سے پروموٹ کر رہے ہیں کہ اس نے جاوید اختر ڈیبیٹ میں اللہ کے وجود کی بات کی۔”
میں آپ سے ایک منٹ کے لیے سوال پوچھتا ہوں: اگر اللہ کے وجود کو ثابت کرنے والا یہ شخص “قادیانی” ہوتا تو آپ کیا کرتے؟
کیا آپ اس بندے کو پروموٹ کرتے؟
آپ کہتے: “نہیں! ہم نہیں پروموٹ کر سکتے۔”
بھلے وہ پوری کی پوری ملحدیت کو پچھاڑ کے رکھ دے، پھر بھی اس کی باتیں، اس کی خدمات “دین کی خدمت” نہیں سمجھی جائیں گی۔ کیوں؟ اس وجہ سے کہ وہ “ختمِ نبوت” کا انکار کرتے ہیں۔ وہ ضروریاتِ دین میں سے ایک مین (Main) عقیدہ، جس کو مانے بغیر کوئی مسلمان ہی نہیں ہو سکتا، اس کا انکار کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے بعد ایک امتی نبی کو ڈکلیئر (Declare) کرتے ہیں۔
اگر آپ صرف توحید کی بات کریں، تو توحید کا درس تو قادیانی بھی دے رہے ہوتے ہیں۔ اور ایسا درس دیتے ہیں کہ ہمیں (مسلمانوں کو) مشرک کہہ رہے ہوتے ہیں، ہمیں “قبر چاٹ” اور “بابا چاٹ” کہتے ہیں۔ یہ قادیانیوں کی بولی ہے۔ تو کیا اب آپ کہیں گے کہ “یار وہ توحید پر تو بات کر رہے ہیں نہ، اگر ختم نبوت نہیں مانتے تو الگ میٹر ہے، چلو پروموٹ کر دو”؟ آپ کہیں گے: “نہیں! یہ کفر و اسلام کا مسئلہ ہے۔”
یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوگا!
تو میرے پیارے بھائی! یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ جس فرقہ (دیوبند) کو آپ ریپریزنٹ کر رہے ہیں یا پروموٹ کر رہے ہیں، ہمارا بھی ان کے ساتھ “کفر و اسلام” کا مسئلہ ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ “وہ اللہ کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں اس لیے ہم پروموٹ کر رہے ہیں”، یہ جذباتیت ہے۔ ہم جو آپ کو روک رہے ہیں، ہمارا ان سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے۔ انہوں نے ہمارا کوئی مال نہیں کھایا، کوئی جانی نقصان نہیں کیا۔
مومن کی شان یہ ہوتی ہے کہ “الحب للہ والبغض للہ” (محبت بھی اللہ کے لیے اور دشمنی بھی اللہ کے لیے)۔ اگر آپ اللہ رسول کی محبت میں کسی کو پروموٹ کر رہے ہیں تو پہلے اس کے عقائد بھی دیکھیں، اس کی بیس (Base) بھی دیکھیں کہ کیا ہے۔
4. اہلسنت اور دیوبند کا “اصل اختلاف” کیا ہے؟
آپ لوگ اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ یہ لوگ آپ کو بہت بڑا دھوکہ دیتے ہیں کہ ہمارا اختلاف صرف چھوٹی باتوں پر ہے۔ ہماری نیو جنریشن (New Generation) اور یونیورسٹی کے لڑکے یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ سنی اور دیوبندی کا اختلاف یہ ہے کہ:
یہ انگوٹھے نہیں چومتے۔
یہ اذان سے پہلے درود نہیں پڑھتے۔
یہ چالیسواں، تیجہ یا دسواں نہیں کرتے۔
یہ میلاد کے جلوس میں نہیں جاتے۔
آج میں آپ کو کلیئرلی (Clearly) بتا رہا ہوں: ہم ان کو اس بنیاد (Base) کے اوپر دائرہ اسلام سے خارج نہیں سمجھتے۔
ہاں! ہمارا اختلاف ضرور ہے کہ یہ ان جائز امور کو “ناجائز” کیوں کہتے ہیں بغیر کسی دلیل کے۔
لیکن اگر کوئی سنی بھائی ساری زندگی انگوٹھے نہ چومے، مگر اسے جائز سمجھے، تو وہ گنہگار نہیں ہے۔
اگر کوئی اذان سے پہلے درود نہ پڑھے، لیکن درود کو ناجائز نہ کہے، تو کوئی مسئلہ نہیں، وہ کافر نہیں ہے۔
تو پھر اختلاف کس چیز پر ہے؟ دماغ کی کھڑکیاں کھول کر سمجھ لیں! ہمارا آپ سے اختلاف “تیجہ، چالیسواں اور درود” نہیں ہے۔ ہمارا آپ کے ساتھ جو اختلاف ہے وہ “کفر و اسلام” کا اختلاف ہے۔
وہ کفریہ عبارات جو آپ کے بزرگوں نے لکھیں۔
وہ بزرگ جن کو آپ اون (Own) کرتے ہیں۔
ان کفریہ عبارات کے دفاع میں آپ نے پوری پوری کتابیں لکھ ماریں۔
جب تک آپ ان عبارات کو کفر تسلیم نہیں کرتے، ہمارا آپ کے ساتھ اختلاف رہے گا۔ ہم کسی کو خوامخواہ کافر نہیں کہتے۔ لوگ کہتے ہیں: “یار ان سنیوں کے پاس تو کفر کی مشینیں ہیں، فتوے لگاتے رہتے ہیں۔” مجھے بتائیں! ایک مفتی جب کفر پر فتویٰ دیتا ہے تو اس کے سامنے “کلمہ کفر” آتا ہے تبھی فتویٰ دیتا ہے نا؟ یا وہ گھر بیٹھے فتوے لکھتا رہتا ہے؟ بھائی! آپ کو کفر کا فتویٰ لگانے والی مشین تو نظر آ گئی، لیکن کفر بکنے والی اور کفر بولنے والی مشین نظر کیوں نہیں آئیں؟
5. “شکر ہے وہاں بریلوی نہیں تھے” (میرا جواب)
یہاں سوشل میڈیا پر بہت سے مخالفین نے یہ طنز کیا کہ: “جی شکر ہے جاوید اختر ڈیبیٹ میں بریلوی موجود نہیں تھے، ورنہ وہ کیسے ثابت کرتے؟”
میں آپ کو الزامی طور پر ایک جواب دینا چاہتا ہوں: اول تو ایسی باتیں کر کے آپ الحاد کو موقع نہ دیا کریں کہ وہ آپ کا مذاق اڑائے۔ ورنہ یہ تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ: “شکر ہے جاوید اختر نے آپ کی کتابیں نہیں پڑھی ہوئی تھیں۔”
اگر اس کو آپ کے بزرگوں کی معلومات ہوتیں، تو وہ آپ سے پوچھتا:
“یار آپ نے God (خدا) کا وجود تو بتا دیا، لیکن آپ اپنے خدا کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے ؟(معاذ اللہ) یہ کیسا خدا ہے؟”
پھر وہ آپ سے پوچھتا:
“آپ ایسے نبی کو خاتم النبیین کہتے ہیں جن کے بارے میں آپ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر ان کے بعد بھی کوئی نبی آ جائے تو ختمِ نبوت پر اثر نہیں پڑتا؟”
پھر آپ کیا جواب دیتے؟
آپ دیکھیں کہ قادیانی لائیو اسٹریمز (Live Streams) میں آ کر آپ کی ان باتوں کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ جتنا رخنہ، جتنا فساد اور جتنا انتشار آپ کے بڑوں نے اسلام میں ڈالا، وہ اب تک ہم بھگت رہے ہیں اور اللہ جانے آگے کب تک بھگتنا ہے ۔
6. الحاد کی حقیقت اور “منافقین” کا کردار
کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ اس ڈیبیٹ سے الحاد ختم ہو گیا۔ سر! الحاد ختم نہیں ہوا۔ یہ ذہن میں رکھیے گا کہ الحاد کوئی مذہب نہیں، یہ ایک “مہم” (Campaign) ہے۔ یہ وہ مہم ہے جو اسلام کے خلاف شروع کی گئی ہے اور طاقت کے بل بوتے پر اسے اٹھایا جاتا ہے۔
جاوید اختر نے ڈیبیٹ میں کیا کہا؟ وہی گھسا پٹا اعتراض!
“فلسطین میں، غزہ میں اتنا قتل عام ہو رہا ہے، کہاں ہے تمہارا خدا؟ بچاتا کیوں نہیں؟”
ارے یہ ملحد ہے نا! اس میں عقل نہیں ہے، سمجھ نہیں ہے۔ “مدد کے لیے پہنچنا” الگ چیز ہے اور “اللہ کا وجود ہونا” الگ چیز ہے۔ وجود کو ماننے کے لیے اختیارات کی مثال دینا یہ ایک ملحد ہی کر سکتا ہے جس کی کھوپڑی میں دماغ نہ ہو۔
اصل مجرم کون ہے؟ ملحد کا رد کرنا آسان ہے، لیکن اس کے مقابلے میں وہ “منافق” جو ہمارے اندر ہے، وہ زیادہ خطرناک ہے۔ وہ منافق جو یہ نعرہ لگاتا ہے: “میرے نبی سا ہے ہی کوئی نہیں، تیرے بابے تے شے ہی کوئی نہیں،”
یہ وہ شخص ہے جو آپ کو الحاد کی طرف دھکا دے رہا ہے۔ دیکھیں! یہ دونوں آپس میں کیسے ملتے ہیں:
منافق کہتا ہے:“اگر اللہ کے ولیوں کے پاس طاقت ہے تو وہ وائٹ ہاؤس (White House) کو اٹھا کر مارگلہ کی پہاڑی پر کیوں نہیں رکھ دیتے؟”
ملحد (جاوید اختر) کہتا ہے:“اگر اللہ ہے تو اللہ رکھ دے اللہ کیوں نہیں رکھتا؟”
یعنی ملحد کہتا ہے کہ اگر اللہ ہے تو وہ وائٹ ہاؤس (White House) کو اٹھا کر مارگلہ کی پہاڑی پر کیوں نہیں رکھ دیتا۔
دیکھا آپ نے؟ یہ دونوں آپس میں لڑ رہے ہیں لیکن درحقیقت ایک ہی بات کر رہے ہیں۔ یعنی یہ دونوں آپس میں ہی لڑ رہے ہیں لیکن آپ کو یہ ظاہر کروا رہے ہیں کہ ایک صحیح ہے اور ایک غلط ہے یہ ایک نوجوان کو کنفیوز کر رہے ہیں۔ وہ دو کشتیوں کا مسافر بن چکا ہے۔
اس کو سمجھ نہیں آرہی کہ میں یہاں جاؤں کہ یہاں جاؤں، بیس غلط ہے آپ کو چیز ہی غلط پڑھائی گئی ہے کہ یار کرامت ہوتی ہی وہ ہے جو کیمرے میں نظر آئے اس حوالے سے اگر آپ نے معلومات حاصل کرنی ہے تو یہ کلپ دیکھ سکتے ہیں۔
7. میری “یوتھ” (Youth) سے گزارش
میری نوجوان نسل، جو مجھےپڑھ رہی ہے، میں ان سے کہوں گا: یار خدا کا واسطہ ہے! ہر ایک کو سن کر نہ بیٹھ جایا کریں۔ آپ کے پاس کوئی اور کام نہیں ہے؟ یہ موبائل اٹھایا ہوا ہے، بس اسکرولنگ (Scrolling) کر رہے ہیں۔ 20 سیکنڈ کا کلپ سامنے آتا ہے، آپ دیکھتے ہیں اور اپنا ایمان دے بیٹھتے ہیں۔ کیا اب یہی کرنا ہے آپ نے؟ کیا آپ گمراہ ہونے کے لیے رہ گئے ہیں؟
ہم تو اپنا کام کر رہے ہیں، آپ کو سکھا رہے ہیں۔ لیکن آپ کو یہ “شیئر” (Share) کا بٹن اتنا بھاری کیوں لگتا ہے؟ آپ کو لگتا ہے اس سے کوئی پروموٹ ہو جائے گا؟ نہیں میرے بھائی! اس سے کوئی پروموٹ نہیں ہوگا۔ ہم نے دنیا سے چلے جانا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا: کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گاپر رسول اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا
یہ آپ کی آخرت ہے۔ ایک بندہ بھی اگر آپ کے شیئر کی وجہ سے سدھر گیا، راہِ ہدایت پر آ گیا، تو خدا کی قسم آپ کی آخرت بن جائے گی۔
8. علماء اور خواص کے لیے لمحہ فکریہ
آخر میں، میں کچھ بات “خواص” (علماء اہلسنت) کے لیے کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چاہے تو دین کا کام “فاسق” سے بھی لے لیتا ہے۔ لیکن ایک منٹ کے لیے سوچیے گا! یہ لمحہ فکریہ ہے۔
یہ میدان کس کا تھا؟ یہ میدان ہم نے خالی کیوں چھوڑا؟ ہم نے اپنے مورچے خالی کیوں چھوڑے؟ ہم ان کاموں میں کیوں پڑ گئے جو ہمارے کرنے کے نہیں تھے؟ آج ہم اپنے سنی نوجوان کو کہہ رہے ہیں کہ “اس کو پروموٹ نہ کرو”، تو وہ کس کو پروموٹ کرے؟ جب ہم نے اسے ایجوکیٹ (Educate) ہی نہیں کیا، اسے سکھایا ہی نہیں، تو وہ تو دوسروں کو سنے گا نا۔
یہ وہی بات ہے کہ جب “کرنے والے” اپنا کام نہیں کریں گے، تو اللہ “فاسقوں” سے کام لے گا۔ یہ ہماری خوش قسمتی نہیں بلکہ بدقسمتی ہے کہ ہم موجود نہیں ہیں۔ جس قوم کے نوجوان بھٹک جاتے ہیں، اس کی ذمہ داری کسی نہ کسی کے سر پر ضرور آتی ہے۔
آخری دعا
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہماری صلاحیتوں کو دین کے لیے قبول فرمائے۔ ہمیں آخرت کے ثواب سے محروم نہ کرے۔ اور ہمیں صحیح معنوں میں “الحب للہ والبغض للہ” پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔