آج کل ڈیجیٹل دور میں آن لائن پیسہ کمانے کے لیے فاریکس ٹریڈنگ کافی مشہور ہو چکی ہے۔ لیکن بہت سے مسلمان اس کے شرعی حکم کے بارے میں پریشان ہیں کہ کیا یہ بزنس حلال ہے یا حرام؟
عام طریقے سے کی جانے والی فاریکس ٹریڈنگ کا حکم ناجائز اور حرام ہے۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ اس حکم کی بنیادی وجوہات کیا ہیں اور اسلام کن اصولوں پر تجارت کی اجازت دیتا ہے۔

فاریکس ٹریڈنگ حرام ہونے کی 4 بنیادی وجوہات
علماء نے فاریکس ٹریڈنگ کو ناجائز قرار دینے کی چار (4) بنیادی وجوہات بیان کی ہیں جو قرآن اور حدیث کے اصولوں پر مبنی ہیں:
1. چیز کی ملکیت (Ownership) کا نہ ہونا
شریعت کا بنیادی اصول ہے کہ آپ وہی چیز آگے فروخت کر سکتے ہیں جس کے آپ حقیقی مالک بن چکے ہوں۔
-
- فاریکس میں کیا ہوتا ہے؟ جب آپ گولڈ، آئل یا کسی کرنسی کی ٹریڈنگ کرتے ہیں، تو آپ کو فزیکلی کچھ نہیں ملتا۔ آپ کی سکرین پر صرف فرضی نمبرز نظر آتے ہیں۔ وہ سونا یا تیل آپ کی ملکیت میں نہیں آتا۔
-
- حکم: جو چیز آپ کی ملکیت میں نہیں ہے، اسے بیچنا اور اس پر نفع کمانا شرعاً منع ہے۔
2. قبضہ (Possession) کا نہ ہونا
ملکیت کے ساتھ دوسرا اہم اصول قبضہ ہے۔ تجارت کی اجازت تب ہوتی ہے جب آپ نے خریدی ہوئی چیز کا قبضہ لے لیا ہو۔
-
- فاریکس میں کیا ہوتا ہے؟ چونکہ کوئی فزیکل چیز ٹرانسفر ہی نہیں ہوتی، اس لیے آپ کا اس پر کوئی قبضہ نہیں ہوتا۔ آپ صرف پرائس کے فرق پر ٹریڈنگ کر رہے ہوتے ہیں۔
-
- حکم: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر اُس چیز کو بیچنا منع فرمایا ہے جس پر آپ نے ابھی قبضہ نہ کیا ہو۔
3. فزیکل وجود اور ڈیلیوری کا نہ ہونا
فاریکس پلیٹ فارمز عام طور پر یہ اقرار نہیں کرتے کہ وہ آپ کو اصل چیز (سونا، تیل) ڈیلیور کریں گے۔
-
- فاریکس میں کیا ہوتا ہے؟ اگر آپ کمپنی سے کہیں کہ “میں نے جو سونا خریدا ہے، وہ مجھے دے دو،” تو وہ اس کے پابند نہیں ہوتے۔ یہ صرف ہوائی اعداد (numbers) کی ٹریڈنگ ہے، جس کے پیچھے کوئی فزیکل وجود نہیں ہوتا۔
-
- حکم: جب خریدی ہوئی چیز کا وجود ہی نہ ہوتو ایسی تجارت درست نہیں ہے۔
4. سٹہ بازی (Speculation) اور جُوا
فاریکس ٹریڈنگ کا حکم سب سے زیادہ اس وجہ سے حرام ہوتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد سٹہ بازی پر ہے۔
-
- فاریکس میں کیا ہوتا ہے؟ فاریکس ٹریڈر کی اصل دلچسپی صرف نفع یا نقصان کی سیٹلمنٹ میں ہوتی ہے۔ وہ صرف یہ شرط لگاتا ہے (سٹہ کرتا ہے) کہ پرائس اوپر جائے گا یا نیچے، نہ کہ وہ حقیقت میں کوئی چیز خرید رہا ہے۔
-
- حکم: یہ طریقہ جس کے ذریعے صرف قسمت یا تخمینے پر پیسہ کمایا جاتا ہے، اسلام میں جُوا (Gambling) کہلاتا ہے اور یہ قطعی طور پر حرام ہے۔
آخری نصیحت: حلال رزق کی اہمیت
علماء نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ نے ہر انسان کے مقدر میں اُس کا رزق لکھ دیا ہے۔
چاہے آپ حلال طریقہ اختیار کریں یا حرام، آپ کو اتنا ہی رزق ملے گا جتنا آپ کی قسمت میں لکھا ہے۔ اگر آپ فاریکس ٹریڈنگ کا حکم جان کر بھی حرام طریقہ اختیار کرتے ہیں، تو اس سے آپ کی دولت میں اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ آپ آخرت میں حرام کمائی کا حساب دیں گے۔
اس لیے، بہترین عمل یہ ہے کہ ہم اسلام کے اصولوں کے مطابق حلال اور جائز ذریعے سے تجارت اور کاروبار کریں۔