Iman-e-Ahle-Sunnat

نماز کی رکعت بھول جانا: شک کا شرعی حل اور سجدہ سہو کریں یا نہ کریں ؟

نماز کی رکعت بھول جانا

نماز کے دوران اکثر لوگوں کو یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ نماز کی رکعت بھول جانا ایک ایسا وسوسہ ہے جو انسان کو پریشان کر دیتا ہے کہ اب نماز جاری رکھیں یا توڑ دیں؟ علماء نے اس مسئلے کا بہت ہی آسان اور واضح شرعی حل بیان کیا ہے۔

اگر آپ کو بھی نماز کے دوران یہ شک ہوتا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، آئیے اس کا حل جانتے ہیں۔

نماز کی رکعت بھول جانا

1. اگر زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا ہو

اگر آپ کے ساتھ نماز کی رکعت بھول جانا زندگی کا پہلا واقعہ ہے، یعنی اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ:

    • اپنی نماز کو وہیں توڑ دیں۔

    • نئے سرے سے دوبارہ نیت باندھ کر نماز شروع کریں۔

2. اگر بار بار بھولنے کی عادت ہو

اگر یہ آپ کے ساتھ اکثر ہوتا ہے اور شیطان بار بار وسوسے ڈالتا ہے، تو نماز توڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی دو صورتیں ہیں:

(الف) غالب گمان (دل کا کسی ایک طرف مائل ہونا)

اگر آپ کو شک ہوا (مثلاً دو پڑھی ہیں یا تین) لیکن آپ کا دل اور دماغ کسی ایک نمبر کی طرف زیادہ مائل ہے (جیسے 80 فیصد لگ رہا ہے کہ 3 ہیں)، تو اسے ہی صحیح مان لیں۔

    • جس طرف دل جم رہا ہے اسی کو شمار کریں۔

    • باقی نماز نارمل طریقے سے مکمل کریں۔

    • اس صورت میں سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں۔

(ب) اگر شک 50-50 ہو (برابر کا شک)

اگر معاملہ ایسا ہے کہ آپ بالکل فیصلہ نہیں کر پا رہے اور دونوں طرف شک برابر ہے، تو یہاں نماز کی رکعت بھول جانا ایک خاص اصول کا متقاضی ہے۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ: “کم نمبر (چھوٹی تعداد) کو منتخب کریں۔”

طریقہ کار:

اگر 3 اور 4 میں شک ہے تو آپ 3 (تین) کو یقینی مانیں گے۔ لیکن چونکہ شک موجود ہے، اس لیے اس کا طریقہ تھوڑا مختلف ہوگا:

    1. کم رکعت کو یقینی بنائیں

    1. تشہد: ہو سکتا ہے کہ یہ حقیقت میں آپ کی چوتھی رکعت ہو، اس لیے تیسری کے بعد فوراً کھڑے نہ ہوں بلکہ بیٹھ کر “التحیات” پڑھیں (تاکہ اگر یہ آخری رکعت ہو تو قعدہ اخیرہ چھوٹ نہ جائے)۔

    1. نماز مکمل کرنا: التحیات کے بعد چوتھی رکعت کے لیے کھڑے ہوں، اسے مکمل کریں اور آخر میں سجدہ سہو لازمی کریں۔

فجر کی نماز کی مثال

اگر فجر کی نماز میں آپ کو پہلی اور دوسری رکعت میں شک ہو جائے، اور آپ کو کچھ سمجھ نہ آ رہا ہو، تو:

    1. اسے پہلی رکعت شمار کریں۔

    1. لیکن اس کے بعد بھی التحیات کے لیے بیٹھیں (کیونکہ ہو سکتا ہے یہ دوسری ہو)۔

    1. پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت پڑھیں اور دوبارہ بیٹھیں۔

    1. آخر میں سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دیں۔

خلاصہ

نماز کی رکعت بھول جانا کوئی ایسی غلطی نہیں جس سے آپ کی نماز ضائع ہو جائے، بشرطیکہ آپ اصول جانتے ہوں۔ اگر شک ہو تو ہمیشہ کم تعداد کو لیں، مشکوک رکعت میں احتیاطاً بیٹھیں اور آخر میں سجدہ سہو کر لیں۔ اس طرح آپ کی نماز درست ہو جائے گی۔

Video Reference

نماز کی رکعت بھول جانا” اس سے متعلق مزید تفصیل کے لیے یہ ویڈیو دیکھیں۔”

Leave a Comment