Iman-e-Ahle-Sunnat

آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام، ڈراپ شپنگ اور ای کامرس کے مسائل | مکمل گائیڈ

دورِ حاضر میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی نے جہاں ہماری زندگیوں کو آسان کیا ہے، وہیں کاروبار کے طور طریقوں میں بھی ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آج کل ای کامرس (E-Commerce) اور آن لائن شاپنگ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان سمیت پوری دنیا میں مسلمان نوجوان اس فیلڈ کی طرف تیزی سے آ رہے ہیں۔

لیکن ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے کہ ہم یہ جانیں کہ آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام کیا ہیں؟ کیا ہم نادانی میں کوئی ایسا سودا تو نہیں کر رہے جو شریعت کی نظر میں حرام ہو؟ کیا ہماری کمائی حلال ہے؟

حال ہی میں ایک بہت بڑے مفتی (عالم دین، جو کہ تجارتی مسائل کے ماہر ہیں) کے ساتھ ایک بہت ہی اہم نشست کی گئی۔ اس نشست میں انہوں نے ای کامرس سے جڑے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل بیان کیا۔ آج کی اس تفصیلی بلاگ پوسٹ میں ہم اسی ویڈیو کی روشنی میں آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام کا مکمل احاطہ کریں گے تاکہ آپ اپنے کاروبار کو دنیا اور آخرت دونوں کے لیے نفع بخش بنا سکیں۔

آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام


1. پروڈکٹ کی تصاویر اور حقیقت میں فرق: کیا یہ دھوکہ ہے؟

آن لائن کاروبار کی بنیاد ہی “دکھاوے” پر ہے۔ گاہک چیز کو چھو نہیں سکتا، صرف دیکھ سکتا ہے۔ یہاں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پروڈکٹ کی ایسی تصویر لگانا جائز ہے جو حقیقت سے تھوڑی مختلف ہو؟

آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام کے مطابق اس مسئلے کی تین صورتیں ہیں:

الف: دھوکہ دہی کی نیت (حرام)

اگر بیچنے والے (Seller) کا مقصد ہی گاہک کو دھوکہ دینا ہے۔ مثال کے طور پر، تصویر کسی اوریجنل برانڈ کی لگائی لیکن گاہک کو “فرسٹ کاپی” یا کوئی گھٹیا کوالٹی کی چیز بھیج دی، یا تصویر میں پروڈکٹ کے عیب چھپا دیے گئے۔ یہ طریقہ سراسر ناجائز اور حرام ہے۔ نبی کریم ﷺ کا مشہور فرمان ہے:

“جس نے ملاوٹ کی (یا دھوکہ دیا) وہ ہم میں سے نہیں۔”

ب: خوبصورتی کو نکھارنا (جائز)

دوسری صورت یہ ہے کہ پروڈکٹ وہی ہے جو بیچی جا رہی ہے، لیکن اس کی تصویر بہت پروفیشنل طریقے سے لی گئی ہے۔ اچھی لائٹنگ، بہترین کیمرہ اور خوبصورت بیک گراؤنڈ استعمال کیا گیا ہے جس سے چیز زیادہ پرکشش نظر آ رہی ہے۔ مفتی صاحب نے اس کی بڑی خوبصورت مثال دی کہ جب ہم کسی بڑے شاپنگ مال میں کپڑے خریدنے جاتے ہیں، تو وہاں کی خصوصی لائٹنگ میں کپڑا بہت چمکدار لگتا ہے، لیکن جب ہم وہی کپڑا گھر کی عام روشنی یا سورج کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو وہ تھوڑا مختلف لگتا ہے۔ چونکہ یہاں سیلر کا مقصد دھوکہ دینا نہیں بلکہ چیز کی پریزنٹیشن اچھی کرنا ہے، لہذا یہ آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام میں جائز ہے۔ ویب سائٹس پر اکثر یہ لکھا بھی ہوتا ہے کہ “لائٹنگ کی وجہ سے رنگ میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔” جو کہ بہترین کام ہے

ج: ماحول کی عکاسی (جائز)

تیسری صورت کچھ خاص آئٹمز (جیسے ڈیکوریشن پیسز یا اسٹوڈیو لائٹس) کے لیے ہوتی ہے جو عام آنکھ سے مختلف لگتے ہیں لیکن کیمرے میں ان کا اثر مختلف ہوتا ہے۔ چونکہ ان کا استعمال ہی کیمرے یا سجاوٹ کے لیے ہے، اس لیے ایسی تصاویر لگانا بھی جائز ہے جو ان کے اصل استعمال کو ظاہر کریں۔


2. خراب پروڈکٹ (Defective Product) کی واپسی اور ڈیلیوری چارجز

یہ ای کامرس کا سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے۔ اگر کسٹمر تک پروڈکٹ پہنچی اور وہ ٹوٹی ہوئی تھی یا وہ چیز نہیں تھی جو منگوائی گئی، تو اسے واپس کمپنی تک بھیجنے کا خرچہ (Courier Charges) کون دے گا؟ کسٹمر یا کمپنی؟

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام کے دو پہلوؤں کو دیکھنا ہوگا:

شرعی پہلو (Legal Aspect)

شریعت کا اصول یہ ہے کہ “اقالہ” یا واپسی کی صورت میں چیز کو بیچنے والے تک پہنچانا خریدار کی ذمہ داری ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیں: اگر آپ بازار سے ایک قمیض خرید کر گھر لاتے ہیں اور وہ سائز میں چھوٹی نکلتی ہے یا اس میں کوئی نقص ہوتا ہے۔ اب آپ اسے واپس کرنے دکان پر جاتے ہیں۔ دکان تک جانے کا پیٹرول، وقت اور کرایہ آپ کا لگتا ہے، دکاندار آپ کے گھر آ کر چیز نہیں لے جاتا۔ بالکل اسی طرح آن لائن شاپنگ میں بھی شرعاً یہ ذمہ داری گاہک (Customer) پر ہے کہ وہ چیز واپس بھجوائے اور اس کا خرچہ برداشت کرے۔

اخلاقی و کاروباری پہلو (Ethical Aspect)

اگرچہ شرعاً کمپنی پابند نہیں ہے، لیکن اخلاقی طور پر چونکہ غلطی کمپنی کی تھی (کہ انہوں نے خراب چیز بھیجی)، اس لیے اگر کمپنی یہ خرچہ خود برداشت کر لے تو یہ “احسان” ہے اور کسٹمر کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے (Customer Loyalty) کا بہترین ذریعہ ہے۔ لیکن یہ کمپنی پر جبر نہیں کیا جا سکتا۔


3. ڈیلیوری کے دوران نقصان (Damage in Transit): ذمہ دار کون؟

آن لائن کاروبار میں ایک بڑا رسک ڈیلیوری کا ہوتا ہے۔ سیلر نے چیز بالکل صحیح حالت میں بھیجی، لیکن راستے میں کورئیر کمپنی کی غفلت یا کسی حادثے کی وجہ سے چیز ٹوٹ گئی۔ اب اس نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟

آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام میں اس کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ “کورئیر کمپنی کس کی نمائندہ (Wakeel) ہے؟”

صورت نمبر 1: سیلر کی ذمہ داری

اگر سیلر (بیچنے والے) نے خود کسی کورئیر کمپنی (جیسے TCS، Leopards وغیرہ) کے ذریعے پارسل بھیجا ہے۔ تو یہاں کورئیر کمپنی سیلر کی نمائندہ (Agent) ہے۔ جب تک چیز خریدار کے ہاتھ میں صحیح سلامت نہیں پہنچ جاتی، وہ سیلر کی ملکیت اور ذمہ داری میں ہے۔ لہذا، اگر راستے میں چیز ٹوٹ گئی، تو نقصان سیلر کا ہوگا اور اسے خریدار کو نئی چیز یا پیسے واپس دینے ہوں گے۔

صورت نمبر 2: خریدار کی ذمہ داری

اگر خریدار نے سیلر سے کہا: “بھائی! آپ چیز پیک کر کے رکھ دیں، میں اپنا بندہ (یا کوئی رائڈر سروس جیسے Uber/Bykea) بھیج رہا ہوں وہ آ کر لے جائے گا”۔ اس صورت میں جیسے ہی سیلر نے وہ چیز اس رائڈر کے حوالے کی، سیلر کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب اگر راستے میں وہ رائڈر چیز توڑ دے یا گرا دے، تو یہ نقصان خریدار کا ہوگا کیونکہ وہ رائڈر خریدار کا نمائندہ تھا۔

اگر غلطی ڈلیوری والوں کی ہے یعنی انہوں نے احتیاط نہیں کی، بے احتیاط کی، صحیح طرح سے اپنی جاب نہیں کی، تو اس صورت میں ڈلیوری والے ہی اس کی رقم ادا کریں گے لیکن اگر ڈلیوری والوں نے اپنی پوری کوشش کی لیکن اچانک حادثہ ہو گیا یا کوئی اور ایسا کام ہو گیا تو پھر ڈلیوری والے پھرپیسے نہیں دیں گے۔


4. ڈراپ شپنگ (Drop-shipping) اور اس کے شرعی مسائل

آج کل نوجوان “ڈراپ شپنگ” کے ذریعے بغیر انویسٹمنٹ کے پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ لیکن روایتی ڈراپ شپنگ میں بہت سے شرعی قباحتیں ہیں۔ آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام میں یہ ٹاپک سب سے زیادہ حساس ہے۔

مسئلہ کیا ہے؟

ڈراپ شپنگ میں آپ ایک ایسی چیز بیچ رہے ہوتے ہیں جو آپ کے پاس موجود نہیں ہوتی۔ آپ گاہک سے آرڈر لیتے ہیں، پیسے لیتے ہیں اور پھر تھرڈ پارٹی سے خرید کر گاہک کو بھجواتے ہیں۔ اسلام میں اصول ہے: “جو چیز تمہارے پاس (قبضے میں) نہیں، اسے مت بیچو۔” (حدیث: حکیم بن حزامؓ) وجہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے جب آپ آرڈر لینے کے بعد سپلائر کے پاس جائیں تو وہ چیز ختم ہو چکی ہو، یا مہنگی ہو گئی ہو، یا خراب ہو۔ اس طرح آپ کا گاہک کے ساتھ کیا گیا سودا پورا نہیں ہو سکے گا اور یہ دھوکے کی شکل بن جائے گی۔

حلال ڈراپ شپنگ کے دو طریقے

مفتی صاحب نے ڈراپ شپنگ کو حلال بنانے کے لیے دو بہترین متبادل طریقے بتائے ہیں:

1. کمیشن ایجنٹ (Commission Agent) بن جائیں

آپ گاہک کو یہ نہ کہیں کہ میں یہ چیز بیچ رہا ہوں۔ بلکہ آپ سپلائر کمپنی کے “ایجنٹ” بن جائیں۔ آپ یہ کہیں کہ میں کمپنی کی طرف سے یہ پروڈکٹ آپ کو فراہم کروں گا اور اس پر اپنا کمیشن رکھ لیں۔ یہ “سمساری” کہلاتا ہے اور یہ بالکل جائز ہے۔ اس میں چیز کی ذمہ داری اصل کمپنی پر ہوتی ہے۔

2. وعدہ بیع (Promise to Sell)

آپ اپنی ویب سائٹ یا فیس بک پیج پر پروڈکٹ لگائیں لیکن گاہک سے سودا (Sale Contract) نہ کریں۔ بلکہ ان سے “وعدہ” کریں۔ یعنی ان کو کچھ اس طرح کا کہیں، یہ طریقہ ملاحظہ فرمائیں۔

  • طریقہ: گاہک سے کہیں “اگر آپ کو یہ چیز چاہیے تو آرڈر پلیس کریں، ہم آپ کے لیے اس کا انتظام کرنے کی کوشش کریں گے۔”
  • جب آرڈر آ جائے، تو آپ جا کر وہ چیز خریدیں اور اپنے قبضے میں لیں (یا سپلائر کو اپنا وکیل بنائیں)۔
  • اس کے بعد گاہک کو حتمی اطلاع دیں کہ چیز دستیاب ہے اور اب سودا مکمل کریں۔ یہ تھوڑا مشکل لگ سکتا ہے لیکن حلال کمائی کے لیے یہ احتیاط بہت ضروری ہے۔


5. جعلی ریویوز (Fake Reviews) اور پیڈ پروموشنز

ای کامرس میں “سوشل پروف” یعنی ریویوز بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے لوگ اپنی سیل بڑھانے کے لیے جعلی ریویوز خریدتے ہیں۔

جعلی ریویوز کا حکم

آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام میں جعلی ریویوز خریدنا اور لگانا نا جائز  ہے۔ یہ جھوٹ بھی ہے اور گاہک کے ساتھ دھوکہ بھی۔ اگر آپ نے پروڈکٹ اچھی بھیجی ہے لیکن ریویو جھوٹا لکھوایا ہے، تب بھی یہ عمل گناہ ہے کیونکہ آپ نے ایک جھوٹی بنیاد پر گاہک کو مائل کیا۔

انفلوئنسر مارکیٹنگ (Influencer Marketing)

کیا کسی مشہور شخصیت یا یوٹیوبر کو پیسے دے کر پروموشن کروانا جائز ہے؟ اس کی دو صورتیں ہیں:

  1. جائز: اگر آپ انفلوئنسر کو پیسے اس لیے دیں کہ وہ اپنا “وقت” نکال کر آپ کی پروڈکٹ ٹیسٹ کرے اور ایمانداری سے اپنا تجزیہ (Review) دے۔ چاہے وہ تعریف کرے یا خامی بتائے۔ یہ جائز ہے۔
  2. ناجائز: اگر آپ پیسے دے کر اسے کہیں کہ “صرف تعریف ہی کرنی ہے” چاہے پروڈکٹ کیسی بھی ہو۔ تو یہ جھوٹ بلوانے کی اجرت ہے اور یہ نا جائز ہے۔


6. ایفیلیٹ مارکیٹنگ (Affiliate Marketing)

ایفیلیٹ مارکیٹنگ یہ ہے کہ آپ کسی کمپنی کا لنک شیئر کرتے ہیں، اور اگر کوئی اس لنک سے خریداری کرے تو آپ کو کمیشن ملتا ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے یہ جائز ہے، بشرطیکہ دو باتوں کا خیال رکھا جائے:

  1. پروڈکٹ حلال ہو: آپ کسی حرام چیز (جیسے شراب، جوا، یا غیر اخلاقی مواد) کی مارکیٹنگ نہ کر رہے ہوں۔
  2. کمیشن طے شدہ ہو: آپ کا اور کمپنی کا معاہدہ واضح ہو کہ فی سیل (Per Sale) کتنا کمیشن ملے گا۔ اس میں کوئی دھوکہ نہیں ہے، یہ ایک طرح کی دلالی یا ایجنٹ شپ ہے جو کہ اسلام میں جائز ہے۔


7. مصنوعی قلت (Artificial Scarcity) پیدا کرنا

آپ نے اکثر ویب سائٹس پر دیکھا ہوگا کہ “جلدی کریں! صرف 1 آئٹم باقی ہے” (Hurry! Only 1 left in stock)۔ اگر تو واقعی اسٹاک میں ایک ائٹم پڑی ہے تو یہ اطلاع دینا درست ہے۔ لیکن اگر گودام بھرا پڑا ہے اور ویب سائٹ پر صرف گاہک کو نفسیاتی دباؤ (Pressure) میں لا کر جلدی سودا کرنے کے لیے یہ لکھا گیا ہے، تو یہ جھوٹ ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ ایسا جھوٹ جس سے دوسرے کو نقصان ہو یا اس کی فیصلہ سازی (Decision making) متاثر ہو، یہ گناہِ کبیرہ میں شمار ہو سکتا ہے۔ برکت سچائی میں ہے، جھوٹ میں نہیں۔


8. فیک رینکنگ (Fake Ranking) اور الگورتھم کی ہیرا پھیری

بڑی ویب سائٹس (جیسے Amazon, Daraz) پر اپنی پروڈکٹ کو پہلے صفحے پر لانے کے لیے لوگ غلط طریقے اپناتے ہیں۔

  • فیک آرڈرز (Bleeding): لوگ اپنے ہی جاننے والوں سے سینکڑوں جعلی آرڈرز لگواتے ہیں تاکہ سسٹم کو لگے کہ یہ پروڈکٹ بہت بک رہی ہے۔
  • کلک فارمز (Click Farms): سافٹ ویئرز کے ذریعے مصنوعی ٹریفک لائی جاتی ہے۔

یہ سب طریقے آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام کی رو سے دھوکہ دہی (Deception) کے زمرے میں آتے ہیں اور ناجائز ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ پلیٹ فارم کو آفیشل فیس دے کر “Sponsored Ad” چلاتے ہیں تو یہ بالکل جائز ہے کیونکہ اس میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ اشتہار ہے، اور کوئی دھوکہ نہیں ہوتا۔


خلاصہ: حلال کاروبار، برکت کا ذریعہ

اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں صرف مال کمانے کی فکر نہیں ہونی چاہیے بلکہ “حلال” مال کمانے کی فکر ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“قیامت کے دن تاجروں کو فاسق (گناہ گار) اٹھایا جائے گا، سوائے ان کے جو اللہ سے ڈرے، نیکی کی اور سچ بولا۔”

آن لائن شاپنگ کے اسلامی احکام پر عمل کر کے ہم نہ صرف حرام سے بچ سکتے ہیں بلکہ اپنے کاروبار میں اللہ کی برکت بھی شامل کر سکتے ہیں۔ تھوڑا کمائیں لیکن ستھرا کمائیں، کیونکہ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔

اور اگر آپ نے فوریکس ٹریڈنگ کے مسائل سیکھنے ہیں تو اسی ٹیکسٹ پہ کلک کریں۔ 

اچھے طریقے سے سمجھنے کے لیے اپ یہ ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment